ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب

“My senses take flight, O Asad, beholding the blossom's radiant glow; once more the hour arrives for the wave of wine to spread its wings.”

— مرزا غالب
معنی

اے اسدؔ، پھول کی رونق دیکھ کر میرے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ اب پھر وہ وقت آ گیا ہے کہ شراب کی موج اپنے پر پھیلائے۔

تشریح

غالب اس شعر میں بہار اور جلوۂ حسن کے سحر انگیز اثر کو بے حد پیارے انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ پھولوں کی رعنائی دیکھ کر ہی شاعر کے ہوش و حواس گم ہونے لگتے ہیں، جیسے حسن خود ایک نشہ بن گیا ہو۔ ایسے پرکیف عالم میں موجِ شراب بھی پرندے کی طرح پر پھیلانے کو تیار ہو جاتی ہے، یعنی بے خودی اور سرمستی کی محفل سجنے کا وقت آ پہنچا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev12 / 12