غزل
ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے
ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے
یہ غزل وجودی تنہائی اور تعاقب کی بے ثباتی کے گہرے احساس کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر افسوس کرتا ہے کہ ہر قدم پر منزل اور دور ہوتی جاتی ہے، اور یہاں تک کہ وسیع بیاباں بھی اس کی موجودگی سے بھاگتا ہے۔ دل کی تکلیف اتنی شدید ہے کہ تنہائی کی رات میں، اس کا اپنا سایہ بھی اسے چھوڑ دیتا ہے، ایک ویران آئینہ خانہ پیچھے رہ جاتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हर क़दम दूरी-ए-मंज़िल है नुमायाँ मुझ से
मेरी रफ़्तार से भागे है बयाबाँ मुझ से
ہر قدم پر منزل کی دوری کی وسعت مجھ سے نمایاں ہوتی جاتی ہے؛ میری رفتار سے بیابان بھی مجھ سے بھاگتا ہے۔
2
दर्स-ए-उनवान-ए-तमाशा ब-तग़ाफ़ुल ख़ुश-तर
है निगह रिश्ता-ए-शीराज़ा-ए-मिज़्गाँ मुझ से
درسِ عنوانِ تماشا تغافل کے ساتھ زیادہ خوشگوار لگتا ہے۔ میری نگاہ ہی میری پلکوں کا شیرازہ ہے۔
3
वहशत-ए-आतिश-ए-दिल से शब-ए-तन्हाई में
सूरत-ए-दूद रहा साया गुरेज़ाँ मुझ से
تنہائی کی رات میں، دل کی آگ کے خوف سے، میرا سایہ بھی دھوئیں کی طرح مجھ سے دور بھاگتا رہا۔
4
ग़म-ए-उश्शाक़ न हो सादगी-आमोज़-ए-बुताँ
किस क़दर ख़ाना-ए-आईना है वीराँ मुझ से
شاعر خواہش کرتا ہے کہ عاشقوں کا غم محبوبوں کو سادہ یا معصوم نہ بنا دے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ اس کی اپنی موجودگی نے کس قدر آئینہ خانہ (خود شناسی یا خوبصورتی کی جگہ) کو ویران کر دیا ہے۔
5
असर-ए-आबला से जादा-ए-सहरा-ए-जुनूँ
सूरत-ए-रिश्ता-ए-गौहर है चराग़ाँ मुझ से
میرے آبلوں کے اثر سے، جنون کے صحرا کا راستہ، موتیوں کے ہار کی صورت، مجھ سے روشن ہے۔
6
बे-ख़ुदी बिस्तर-ए-तम्हीद-ए-फ़राग़त हो जो
पुर है साए की तरह मेरा शबिस्ताँ मुझ से
اگر بے خودی سکون اور فراغت کا بستر بن جائے، تو میرا شبستان میرے وجود سے، سائے کی طرح، مکمل بھرا ہوا ہے۔
7
शौक़-ए-दीदार में गर तू मुझे गर्दन मारे
हो निगह मिस्ल-ए-गुल-ए-शमा परेशाँ मुझ से
عاشق کہتا ہے کہ اگر محبوب مجھے اپنے دیدار کے شوق میں قتل بھی کر دے، تو بھی میری نگاہ، شمع کی لو کی طرح، مرنے کے بعد بھی بے چین ہو کر تجھے ہی تلاش کرتی رہے گی۔
8
बेकसी-हा-ए-शब-ए-हिज्र की वहशत है है
साया ख़ुर्शीद-ए-क़यामत में है पिंहाँ मुझ से
جدائی کی بے بس راتوں کا خوف بہت زیادہ ہے؛ یہاں تک کہ قیامت کے تیز سورج میں بھی میری پرچھائی مجھ سے چھپی ہوئی ہے۔
9
गर्दिश-ए-साग़र-ए-सद-जल्वा-ए-रंगीं तुझ से
आइना-दारी-ए-यक-दीदा-ए-हैराँ मुझ से
تجھ سے سَو رنگین جلوے ایک گردش کرتے ساغر کی مانند نمودار ہوتے ہیں، اور میری ایک حیران دیدہ ان کا آئینہ دار ہوتی ہے۔
10
निगह-ए-गर्म से एक आग टपकती है 'असद'
है चराग़ाँ ख़स-ओ-ख़ाशाक-ए-गुलिस्ताँ मुझ से
میری گرم نگاہ سے ایک آگ ٹپکتی ہے، اسد۔ مجھ سے باغ کا خس و خاشاک بھی روشن ہو جاتا ہے۔
11
ख़्वाब-ए-जमइय्यत-ए-मख़मल है परेशाँ मुझ से
रग-ए-बिस्तर को मिली शोख़ी-ए-मिज़्गाँ मुझ से
میری بے چینی نے مخمل کے آرام اور سکون کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ میری پلکوں کی شوخی سے بستر کی رگوں کو بھی چبھن اور بے چینی مل گئی ہے۔
12
ग़म-ए-उश्शाक़ न हो सादगी-आमोज़-ए-बुताँ
किस क़दर ख़ाना-ए-आईना है वीराँ मुझ से
غمِ عشاق بُتوں کو سادگی نہ سکھائے۔ مجھ سے آئینوں کا گھر کس قدر ویران ہے؟
13
कुंज-ए-तारीक-ओ-कमीं-गीरी-ए-अख़्तर शुमरी
'ऐनक-ए-चश्म बना रौज़न-ए-ज़िंदाँ मुझ से
تُو نے ایک تاریک گوشے سے چھپ کر ستارے گنے، اور میں نے زنداں کے روزن کو اپنی آنکھوں کی عینک بنا لیا۔
14
ऐ तसल्ली हवस-ए-वा'दा फ़रेब-अफ़्सूँ है
वर्ना क्या हो न सके नाला-ब-सामाँ मुझ से
اے تسلی، وعدے کی ہوس ایک فریب انگیز افسوں ہے۔ ورنہ، میرے پر اثر نالے کیا کچھ نہیں کر سکتے؟
15
बस्तन-ए-अहद-ए-मोहब्बत हमा नादानी था
चश्म-ए-नकुशूदा रिहा उक़्दा-ए-पैमाँ मुझ से
محبت کا عہد باندھنا سراسر نادانی تھی۔ میری آنکھیں ابھی بند ہی تھیں کہ مجھ سے اس وعدے کی گرہ کھل گئی۔
16
आतिश-अफ़रोज़ी-ए-यक-शोला-ए-ईमा तुझ से
चश्मक-आराई-ए-सद-शहर चराग़ाँ मुझ से
تجھ سے ایک اشارے کی اکیلی لو جلائی جاتی ہے۔ مجھ سے سینکڑوں شہروں کی جگمگاتی روشنی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
17
ऐ 'असद' दस्तरस-ए-वस्ल-ए-तमन्ना मा'लूम
काश हो क़ुदरत-ए-बरचीदन-ए-दामाँ मुझ से
اے اسد، اپنی آرزو کی تکمیل تک پہنچنے کی دشواری معلوم ہے۔ کاش مجھ میں اپنا دامن سمیٹ کر اس چاہت سے کنارہ کش ہونے کی قدرت ہوتی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
