غزل
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
یہ غزل محبت میں شک، رقابت اور محبوب کی بے وفائی و ستم ظریفی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عاشق اپنے محبوب کے خط میں کسی غیر کے سلام پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس میں محبوب کے معصومانہ فریب اور عاشق کے دلی صدمے کو ظریفانہ اور پردرد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
तुम्हारे ख़त में नया इक सलाम किस का था
न था रक़ीब तो आख़िर वो नाम किस का था
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
تمہارے خط میں وہ ایک نیا سلام کس کا تھا؟ اگر وہ رقیب کا نہیں تھا تو آخر وہ نام کس کا تھا؟
2
वो क़त्ल कर के मुझे हर किसी से पूछते हैं
ये काम किस ने किया है ये काम किस का था
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وہ مجھے قتل کرنے کے بعد ہر کسی سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ یہ کام کس نے کیا ہے اور اس کا ذمہ دار کون تھا۔
3
वफ़ा करेंगे निबाहेंगे बात मानेंगे
तुम्हें भी याद है कुछ ये कलाम किस का था
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
ہم وفا کریں گے، ساتھ نبھائیں گے اور بات مانیں گے—کیا تمہیں کچھ یاد بھی ہے کہ یہ کس کے الفاظ تھے؟
4
रहा न दिल में वो बेदर्द और दर्द रहा
मुक़ीम कौन हुआ है मक़ाम किस का था
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
وہ بے درد محبوب تو دل میں نہ رہا لیکن درد باقی رہ گیا؛ اب یہاں کون آ کر بس گیا ہے اور یہ جگہ اصل میں کس کی تھی۔
5
न पूछ-गछ थी किसी की वहाँ न आव-भगत
तुम्हारी बज़्म में कल एहतिमाम किस का था
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
وہاں نہ تو کسی کی کوئی پوچھ گچھ تھی اور نہ ہی کوئی خاطر تواضع؛ پھر کل تمہاری محفل میں وہ سارا اہتمام آخر کس کے لیے تھا؟
6
तमाम बज़्म जिसे सुन के रह गई मुश्ताक़
कहो वो तज़्किरा-ए-ना-तमाम किस का था
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا
پوری محفل جسے سن کر مزید سننے کی آرزو میں رہ گئی، بتاؤ وہ نامکمل ذکر کس کا تھا؟
7
हमारे ख़त के तो पुर्ज़े किए पढ़ा भी नहीं
सुना जो तू ने ब-दिल वो पयाम किस का था
ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا
تم نے میرا خط پڑھے بغیر ہی اس کے پرزے کر دیے، پھر وہ کس کا پیغام تھا جسے تم نے اتنے دل سے سنا؟
8
उठाई क्यूँ न क़यामत अदू के कूचे में
लिहाज़ आप को वक़्त-ए-ख़िराम किस का था
اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا
آپ نے دشمن کی گلی میں قیامت کیوں نہ برپا کی؟ ناز و انداز سے چلتے وقت آپ کو آخر کس کا لحاظ تھا؟
9
गुज़र गया वो ज़माना कहूँ तो किस से कहूँ
ख़याल दिल को मिरे सुब्ह ओ शाम किस का था
گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
وہ زمانہ گزر چکا ہے، اب میں کس سے کہوں کہ صبح و شام میرے دل کو کس کا خیال رہتا تھا۔
10
हमें तो हज़रत-ए-वाइज़ की ज़िद ने पिलवाई
यहाँ इरादा-ए-शर्ब-ए-मुदाम किस का था
ہمیں تو حضرت واعظ کی ضد نے پلوائی
یہاں ارادۂ شرب مدام کس کا تھا
ہمیں تو بس واعظ صاحب کی ضد کی وجہ سے شراب پینی پڑی، ورنہ یہاں ہمیشہ شراب پیتے رہنے کا کس کا ارادہ تھا۔
11
अगरचे देखने वाले तिरे हज़ारों थे
तबाह-हाल बहुत ज़ेर-ए-बाम किस का था
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
اگرچہ تجھے دیکھنے والے ہزاروں لوگ تھے، لیکن تیرے کوٹھے کے نیچے وہ کون تھا جس کی حالت اس قدر تباہ اور بدحال تھی؟
12
वो कौन था कि तुम्हें जिस ने बेवफ़ा जाना
ख़याल-ए-ख़ाम ये सौदा-ए-ख़ाम किस का था
وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا
وہ کون شخص تھا جس نے تمہیں بے وفا سمجھا، اور یہ خام خیال اور پاگل پن بھری سوچ آخر کس کی تھی؟
13
इन्हीं सिफ़ात से होता है आदमी मशहूर
जो लुत्फ़ आम वो करते ये नाम किस का था
انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا
انسان انہی خوبیوں کے سبب مشہور ہوتا ہے؛ اگر وہ اپنی عنایت سب پر عام کر دیتے تو پھر یہ نام اور شہرت کس کی ہوتی؟
14
हर इक से कहते हैं क्या 'दाग़' बेवफ़ा निकला
ये पूछे उन से कोई वो ग़ुलाम किस का था
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
وہ ہر ایک سے کہتے پھرتے ہیں کہ داغ بے وفا نکلا، مگر کوئی ان سے یہ پوچھے کہ وہ آخر کس کا غلام تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
