“To everyone they lament, 'Did Daagh turn out to be untrue?' / Would someone ask them instead—whose devoted slave was he?”
وہ ہر ایک سے کہتے پھرتے ہیں کہ داغ بے وفا نکلا، مگر کوئی ان سے یہ پوچھے کہ وہ آخر کس کا غلام تھا۔
اس شعر میں داغؔ دہلوی نے محبوب کے شکوے کا جواب بڑے دلکش طنز اور ناز کے ساتھ دیا ہے۔ محبوب سب کے سامنے روتا پھرتا ہے کہ داغ بے وفا نکلا، مگر شاعر پوچھتا ہے کہ کوئی ذرا ان سے بھی تو پوچھے کہ وہ دل و جان سے آخر کس کا غلام تھا؟ یعنی جس نے اپنی ساری خودداری مٹا کر خود کو آپ کی غلامی میں دے دیا تھا، اسے بے وفائی کا طعنہ دینا دراصل محبوب کی اپنی ناانصافی کو ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
