“Who was it that ever deemed you unfaithful? Whose raw fancy, whose crude obsession was this?”
وہ کون شخص تھا جس نے تمہیں بے وفا سمجھا، اور یہ خام خیال اور پاگل پن بھری سوچ آخر کس کی تھی؟
اس شعر میں عاشق اپنے ہی دل کی نادانی پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ چوٹ کر رہا ہے کہ اس نے کبھی محبوب کے خلوص پر شک کیا۔ 'خیالِ خام' اور 'سودائے خام' دراصل دل کے کچے پن اور ناپختہ وہم کی علامت ہیں، جنہیں شاعر اب محض ایک بے بنیاد فریب مانتا ہے۔ یہ شعر شکوے کو مٹا کر محبوب کو بے گناہ ثابت کرنے اور محبت کے پاکیزہ بھروسے کو لوٹانے کا ایک دلکش انداز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
