“Having slain me, they inquire of everyone around: / Who has done this deed? Whose doing was this?”
وہ مجھے قتل کرنے کے بعد ہر کسی سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ یہ کام کس نے کیا ہے اور اس کا ذمہ دار کون تھا۔
اس شعر میں محبوب کے معصومانہ تغافل اور سنگ دلی پر کمال کا تیکھا طنز چھپا ہوا ہے۔ یہاں دل توڑنے اور جفا کرنے کو قتل کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، اور المیہ یہ ہے کہ ستم گر خود ہی یہ کام کر کے سب سے انجان بنا پوچھتا پھر رہا ہے۔ عاشق کے اس بیان میں گلے شکوے سے زیادہ محبوب کی اس بے نیازی پر ایک گہری کسک اور بے بسی کا احساس ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
