“That era has slipped away—to whom can I now confess, whose thought consumed my heart through morning and through night?”
وہ زمانہ گزر چکا ہے، اب میں کس سے کہوں کہ صبح و شام میرے دل کو کس کا خیال رہتا تھا۔
یہ شعر بیتے ہوئے خوبصورت مگر درد بھرے زمانے کی ایسی یاد ہے جو دل میں خاموش ہوک بن کر رہ گئی ہے۔ شاعر حسرت سے سوچتا ہے کہ کبھی صبح و شام صرف ایک ہی ذات دل کی دنیا پر چھائی رہتی تھی، مگر اب وہ وقت رخصت ہو چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب کوئی ایسا ہمراز بھی باقی نہیں بچا جس کے آگے دل کھول کر اس بے پناہ محبت کی داستاں سنائی جا سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
