“Though thousands were there gazing upon your sight, beneath your balcony, who stood in such ruined plight?”
اگرچہ تجھے دیکھنے والے ہزاروں لوگ تھے، لیکن تیرے کوٹھے کے نیچے وہ کون تھا جس کی حالت اس قدر تباہ اور بدحال تھی؟
شاعر یہاں محبوب کے جلوۂ حسن کا ایک درد انگیز منظر کھینچتا ہے، جہاں بام پر کھڑے محبوب کا دیدار کرنے کے لیے تو بستی کے ہزاروں لوگ موجود تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مجمع میں وہ کون تھا جو صرف تماشا نہیں دیکھ رہا تھا، بلکہ چھت کے نیچے اپنی ہستی لٹا کر بالکل تباہ و برباد کھڑا تھا۔ یہ شعر محض دیکھنے والوں اور عشق میں فنا ہو جانے والے سچے عاشق کے درمیان کا وہ فرق دکھاتا ہے جو صرف دل کی ویرانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
