“It is through qualities such as these that a person gains renown; had their favors been bestowed on all, whose fame would this have been?”
انسان انہی خوبیوں کے سبب مشہور ہوتا ہے؛ اگر وہ اپنی عنایت سب پر عام کر دیتے تو پھر یہ نام اور شہرت کس کی ہوتی؟
یہ شعر شہرت کے راز اور محبوب کی خاص عنایات کو بڑی دلکشی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کسی انسان کا نام اور رتبہ اس کی خاص صفات اور انفرادی انداز ہی سے چمکتا ہے۔ اگر محبوب کا کرم اور توجہ ہر کسی پر یکساں اور عام ہو جاتی، تو پھر اس خاص نوازش کا اعزاز اور یہ چرچا بھلا کس کے حصے میں آتا!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
