“Neither was anyone welcomed there, nor attended to with care; in your gathering yesterday, for whom was all that grand arrangement made?”
وہاں نہ تو کسی کی کوئی پوچھ گچھ تھی اور نہ ہی کوئی خاطر تواضع؛ پھر کل تمہاری محفل میں وہ سارا اہتمام آخر کس کے لیے تھا؟
یہ شعر محبوب کی محفل کے کھوکھلے پن اور وہاں ملنے والی سرد مہری کا بڑا خوبصورت اور پُردرد شکوہ ہے۔ بزم سجائی تو بڑے ٹھاٹھ باٹھ اور اہتمام کے ساتھ گئی تھی، لیکن کسی کی دل جوئی یا خاطر تواضع کا نام و نشان تک نہ تھا۔ شاعر بڑی معصومانہ ستم ظریفی کے ساتھ طنز کرتا ہے کہ اگر کسی کو عزت اور توجہ ہی نہیں دینی تھی، تو پھر یہ سارا تکلف اور رونق کس کے لیے برپا کی گئی تھی؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
