“'We shall be faithful, stand true, and heed your every word' — do you recall at all whose promise this once was?”
ہم وفا کریں گے، ساتھ نبھائیں گے اور بات مانیں گے—کیا تمہیں کچھ یاد بھی ہے کہ یہ کس کے الفاظ تھے؟
یہ شعر گہرے شکوے اور ایک دھیمے طنز کی خوبصورت تصویر ہے۔ عاشق محبوب کو اُسی کے کیے ہوئے پُرانے وعدوں کی یاد دلا رہا ہے، جہاں کبھی وفاداری، ساتھ نبھانے اور ہر بات ماننے کے دَم بھرے گئے تھے۔ بغیر کسی تلخی کے، بس ایک معصومانہ سوال کے ذریعے شاعِر نے محبت میں بکھرے ہوئے خوابوں اور بھولے ہوئے عہد و پیماں کا درد دل پر نقش کر دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
