“That heartless one stayed not in the heart, yet the pain remained; who has taken up residence now, and whose abode was it ever to claim?”
وہ بے درد محبوب تو دل میں نہ رہا لیکن درد باقی رہ گیا؛ اب یہاں کون آ کر بس گیا ہے اور یہ جگہ اصل میں کس کی تھی۔
یہ شعر ہجر کی ایک دردناک اور سچی کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ محبوب جو خود بے درد تھا، وہ تو دل کی بستی چھوڑ کر چلا گیا مگر اس کا دیا ہوا درد ہمیشہ کے لیے یہیں آباد ہو گیا۔ شاعر حیرت اور اداسی میں ڈوب کر پوچھتا ہے کہ یہ دل کس کا مسکن تھا اور اب اس پر درد کس حق سے قابض ہو گیا ہے، یعنی جس کی خاطر یہ گھر بسایا تھا وہ تو نہ رہا مگر رنج ہمیشہ کے لیے مقیم ہو گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
