غزل
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
یہ غزل ایک ایسے عاشق کی قلبی بے بسی کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی پارسائی کے باوجود محبت کے ہاتھوں مجبور ہو گیا۔ اس میں بڑھتے ہوئے میل جول کے ساتھ جدائی کے ناقابل برداشت اندیشے اور درد کو نہایت دل کش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
धूम थी अपनी पारसाई की
की भी और किस से आश्नाई की
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
کی بھی اور کس سے آشنائی کی
میری پارسائی اور پرہیزگاری کا ہر طرف بڑا چرچا تھا، لیکن جب محبت بھی کی تو دیکھیے کس سے کی۔
2
क्यूँ बढ़ाते हो इख़्तिलात बहुत
हम को ताक़त नहीं जुदाई की
کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی
تم اس قدر میل جول اور قربتیں کیوں بڑھاتے ہو؟ مجھ میں جدائی برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے۔
3
मुँह कहाँ तक छुपाओगे हम से
तुम को आदत है ख़ुद-नुमाई की
منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے
تم کو عادت ہے خود نمائی کی
تم ہم سے اپنا چہرہ کب تک چھپاؤ گے، جبکہ تمہیں تو خود کو ظاہر کرنے اور دکھانے کی عادت ہے۔
4
लाग में हैं लगाओ की बातें
सुल्ह में छेड़ है लड़ाई की
لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں
صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی
ظاہری مخالفت اور ناراضگی میں بھی محبت کی باتیں چھپی ہوتی ہیں، اور صلح کے اندر بھی دوبارہ جھگڑا چھیڑنے کی شرارت موجود ہوتی ہے۔
5
मिलते ग़ैरों से हो मिलो लेकिन
हम से बातें करो सफ़ाई की
ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن
ہم سے باتیں کرو صفائی کی
اگر تم دوسروں سے ملتے ہو تو بے شک ملو، مگر ہم سے تو صاف صاف اور سچائی سے بات کرو۔
6
दिल रहा पा-ए-बंद-ए-उल्फ़त-ए-दाम
थी अबस आरज़ू रिहाई की
دل رہا پائے بند الفت دام
تھی عبث آرزو رہائی کی
دل محبت کے جال میں ہی قید رہا، اس لیے رہائی کی تمنا کرنا بالکل فضول تھا۔
7
दिल भी पहलू में हो तो याँ किस से
रखिए उम्मीद दिलरुबाई की
دل بھی پہلو میں ہو تو یاں کس سے
رکھئے امید دل ربائی کی
اگر سینے میں دل موجود بھی ہو تو یہاں کس سے دل لبھانے اور پیار کی امید رکھی جائے۔
8
शहर ओ दरिया से बाग़ ओ सहरा से
बू नहीं आती आश्नाई की
شہر و دریا سے باغ و صحرا سے
بو نہیں آتی آشنائی کی
شہر اور دریا سے، اور نہ ہی باغ اور صحرا سے، کسی بھی مقام سے اپنے پن یا شناسائی کی خوشبو نہیں آتی۔
9
न मिला कोई ग़ारत-ए-ईमाँ
रह गई शर्म पारसाई की
نہ ملا کوئی غارت ایماں
رہ گئی شرم پارسائی کی
ایمان لوٹنے والا کوئی نہ ملا، بس اسی لیے میری پارسائی کی لاج رہ گئی۔
10
बख़्त-ए-हम-दास्तानी-ए-शैदा
तू ने आख़िर को ना-रसाई की
بخت ہم داستانی شیدا
تو نے آخر کو نارسائی کی
شاعر اپنی محبت کی کہانی کی قسمت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آخرکار تو نے کوتاہی کی اور مجھے منزلِ مقصود تک نہ پہنچنے دیا۔
11
सोहबत-ए-गाह-गाही-ए-रश्की
तू ने भी हम से बेवफ़ाई की
صحبت گاہ گاہی رشکی
تو نے بھی ہم سے بے وفائی کی
اے رشکی کی کبھی کبھار میسر آنے والی صحبت، تو نے بھی آخرکار ہم سے بے وفائی کر لی۔
12
मौत की तरह जिस से डरते थे
साअ'त आ पहुँची उस जुदाई की
موت کی طرح جس سے ڈرتے تھے
ساعت آ پہنچی اس جدائی کی
جس جدائی سے ہم موت کی طرح خوفزدہ رہتے تھے، آخرکار اس جدائی کا وقت آ پہنچا ہے۔
13
ज़िंदा फिरने की है हवस 'हाली'
इंतिहा है ये बे-हयाई की
زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ
انتہا ہے یہ بے حیائی کی
اے حالیؔ، اس حال میں بھی زندہ رہنے اور گھومتے پھرنے کی خواہش رکھنا بے شرمی اور بے حیائی کی انتہا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
