“Go on, consort with rivals if you must, but speak with me, at least, in candid truth.”
اگر تم دوسروں سے ملتے ہو تو بے شک ملو، مگر ہم سے تو صاف صاف اور سچائی سے بات کرو۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب پر کوئی پابندی لگانے یا شکوہ کرنے کے بجائے صرف سچائی اور خلوص کا تقاضا کر رہا ہے۔ اسے محبوب کا غیروں سے ملنا شاید اتنا نہیں دکھاتا جتنا کہ اس کے رویے کی منافقت اور باتیں چھپانا تکلیف دیتا ہے۔ یہاں محبت کی وہ سنجیدہ اور باوقار کیفیت نظر آتی ہے جہاں انسان کہتا ہے کہ بے رخی قبول ہے مگر فریب نہیں، کم از کم ہمارے سامنے تو سچائی کا پردہ نہ گراؤ۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
