“How long can you hide your face from me? / When revealing yourself is second nature to you.”
تم ہم سے اپنا چہرہ کب تک چھپاؤ گے، جبکہ تمہیں تو خود کو ظاہر کرنے اور دکھانے کی عادت ہے۔
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے بڑی شوخی اور اپنائیت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ تم آخر کب تک مجھ سے پردہ کرو گے۔ حسن کی تو فطرت ہی یہ ہے کہ وہ خود کو ظاہر کرے اور جلوے بکھیرے، اس لیے تمہارا یہ روٹھ کر چھپنا زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ صوفیانہ زاویے سے دیکھیں تو یہ اشارہ ذاتِ الٰہی کی طرف بھی ہے، جس کا حسن کائنات کے ہر آئینے میں خود کو عیاں کرنے پر مائل ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
