“From city and river, from garden and desert bare / No scent of kinship rises anywhere.”
شہر اور دریا سے، اور نہ ہی باغ اور صحرا سے، کسی بھی مقام سے اپنے پن یا شناسائی کی خوشبو نہیں آتی۔
شاعر نے اس شعر میں شہر، دریا، باغ اور صحرا جیسی مختلف کائناتوں کا ذکر کر کے دکھایا ہے کہ وہ چاہے بھیڑ میں ہو یا تنہائی کے ویرانے میں، اسے کہیں بھی اپنے پن کا احساس نصیب نہیں ہوتا۔ 'آشنائی کی بو' نہ آنے کا استعارہ اس گہری بیگانگی کو ظاہر کرتا ہے جہاں دنیا کی ہر رونق مانوسیت سے خالی ہو چکی ہے۔ یہ شعر دل کے اس درد کو چھوتا ہے جب انسان چاروں طرف زندگی دیکھ کر بھی خود کو بالکل اکیلا اور اجنبی پاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
