“In feigned hostility dwell words of fond affection, / And in each truce lies the tease of a quarrel.”
ظاہری مخالفت اور ناراضگی میں بھی محبت کی باتیں چھپی ہوتی ہیں، اور صلح کے اندر بھی دوبارہ جھگڑا چھیڑنے کی شرارت موجود ہوتی ہے۔
یہ شعر محبت کی اس دلکش اور میٹھی نوک جھونک کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں بظاہر بیزاری کے پردے میں گہری الفت چھپی ہوتی ہے۔ محبوب کی ناراضگی اور تکرار میں بھی پیار اور چاہت کی خوشبو آتی ہے، اور جب وہ صلح کر بھی لے تو اس امن میں چھیڑ چھاڑ اور دوبارہ لڑ پڑنے کا بہانہ تیار رہتا ہے۔ دراصل یہی وہ معصوم ادائیں ہیں جو عشق کے تعلق کو ہمیشہ زندہ اور شاداب رکھتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
