“Even if the heart were still within the breast, from whom here / Could one ever hold the hope of heart-stealing grace?”
اگر سینے میں دل موجود بھی ہو تو یہاں کس سے دل لبھانے اور پیار کی امید رکھی جائے۔
اس شعر میں شاعر بڑی سادگی سے ایک گہری ویرانی اور بے دلی کا مرثیہ پڑھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ بالفرض اگر سینے میں دل ابھی موجود اور سلامت بھی ہو، تو اس بے فیض جہان میں ایسا کون ہے جس سے پیار، دلداری یا دل لبھانے کی آس لگائی جائے؟ یہ صرف اپنے دل سے محرومی کا دکھ نہیں، بلکہ اس درد کا اظہار ہے کہ دنیا میں اب کوئی دلبر ہی باقی نہیں رہا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
