دل رہا پائے بند الفت دام تھی عبث آرزو رہائی کی

“The heart remained captive in the snare of love; in vain was every longing to be free.”

— الطاف حسین حالی
معنی

دل محبت کے جال میں ہی قید رہا، اس لیے رہائی کی تمنا کرنا بالکل فضول تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبت کو ایک ایسے شکاری جال سے تشبیہ دی ہے جس میں دل کے پاؤں بری طرح الجھ کر رہ گئے ہیں۔ جب دل خود ہی الفت کی زنجیروں کا اسیر ہو چکا ہو، تو پھر رہائی کی آرزو کرنا محض ایک بے کار اور لاحاصل بات بن جاتی ہے۔ یہ دراصل عشق کے آگے دل کی ایسی بے بس تسلیم و رضا کا اظہار ہے جہاں سے اب واپسی کا کوئی راستہ ممکن نہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.