“Famed far and wide was the renown of my piety; and yet, look with whom I chose to fall in love!”
میری پارسائی اور پرہیزگاری کا ہر طرف بڑا چرچا تھا، لیکن جب محبت بھی کی تو دیکھیے کس سے کی۔
اس شعر میں شاعر نے بڑی شوخ اور دلکش خود طنزی سے کام لیا ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یوں تو زمانے بھر میں ان کے تقوے اور پرہیزگاری کے چرچے تھے، مگر جب دل ہارنے کی باری آئی تو انہوں نے بھی سب سے فتنہ گر اور پرکشش محبوب کو منتخب کیا۔ یہ شعر انسان کی فطری کمزوری کا بڑا خوبصورت اعتراف ہے کہ عشق کی ایک نظر کے سامنے برسوں کی پارسائی پل بھر میں ڈھیر ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
