غزل

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 14 shers· radif: की तरफ़

اس غزل میں محبوب کی خود پسندی اور بے نیازی کو موضوع بنایا گیا ہے جو صرف اپنے ہی حسن میں محو رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، شاعر نے زمانے کی نکتہ چینی پر بھی طنز کیا ہے جو فن کے حسن کو نظر انداز کر کے صرف عیب تلاش کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
उन्हें निगाह है अपने जमाल ही की तरफ़ नज़र उठा के नहीं देखते किसी की तरफ़
انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف نظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف
ان کی نگاہ صرف اپنے ہی حسن و جمال پر لگی رہتی ہے، وہ کبھی نظر اٹھا کر کسی اور کی طرف نہیں دیکھتے۔
2
तवज्जोह अपनी हो क्या फ़न्न-ए-शाइरी की तरफ़ नज़र हर एक की जाती है ऐब ही की तरफ़
توجہ اپنی ہو کیا فن شاعری کی طرف نظر ہر ایک کی جاتی ہے عیب ہی کی طرف
میں فنِ شاعری کی طرف اپنی توجہ کیوں کروں، جب کہ ہر شخص کی نظر صرف عیبوں اور خامیوں کی طرف ہی جاتی ہے۔
3
लिखा हुआ है जो रोना मिरे मुक़द्दर में ख़याल तक नहीं जाता कभी हँसी की तरफ़
لکھا ہوا ہے جو رونا مرے مقدر میں خیال تک نہیں جاتا کبھی ہنسی کی طرف
چونکہ میری قسمت میں رونا ہی لکھا ہوا ہے، اس لیے میرا دھیان کبھی ہنسی کی طرف جاتا ہی نہیں۔
4
तुम्हारा साया भी जो लोग देख लेते हैं वो आँख उठा के नहीं देखते परी की तरफ़
تمہارا سایہ بھی جو لوگ دیکھ لیتے ہیں وہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے پری کی طرف
جو لوگ تمہارا سایہ بھی دیکھ لیتے ہیں، وہ پھر کسی پری کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔
5
बला में फँसता है दिल मुफ़्त जान जाती है ख़ुदा किसी को न ले जाए उस गली की तरफ़
بلا میں پھنستا ہے دل مفت جان جاتی ہے خدا کسی کو نہ لے جائے اس گلی کی طرف
دل مصیبت میں پھنس جاتا ہے اور ناحق جان چلی جاتی ہے، خدا کسی کو بھی اس گلی کی طرف نہ لے جائے۔
6
कभी जो होती है तकरार ग़ैर से हम से तो दिल से होते हो दर-पर्दा तुम उसी की तरफ़
کبھی جو ہوتی ہے تکرار غیر سے ہم سے تو دل سے ہوتے ہو در پردہ تم اسی کی طرف
جب کبھی ہمارے اور رقیب کے درمیان کوئی تکرار ہوتی ہے، تو تم دل ہی دل میں چھپ کر اسی کی طرف داری کرتے ہو۔
7
निगाह पड़ती है उन पर तमाम महफ़िल की वो आँख उठा के नहीं देखते किसी की तरफ़
نگاہ پڑتی ہے ان پر تمام محفل کی وہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف
ساری محفل کی نظریں ان پر لگی ہیں، مگر وہ آنکھ اٹھا کر بھی کسی کی طرف نہیں دیکھتے۔
8
निगाह उस बुत-ए-ख़ुद-बीं की है मिरे दिल पर न आइने की तरफ़ है न आरसी की तरफ़
نگاہ اس بت خود بیں کی ہے مرے دل پر نہ آئنہ کی طرف ہے نہ آرسی کی طرف
اس خود پسند محبوب کی نظر صرف میرے دل پر ٹکی ہوئی ہے، وہ نہ تو آئینے کی طرف دیکھ رہا ہے اور نہ ہی آرسی کی طرف۔
9
क़ुबूल कीजिए लिल्लाह तोहफ़ा-ए-दिल को नज़र न कीजिए इस की शिकस्तगी की तरफ़
قبول کیجیئے للہ تحفۂ دل کو نظر نہ کیجیئے اس کی شکستگی کی طرف
خدا کے واسطے دل کے اس تحفے کو قبول فرمائیے، اور اس کے ٹوٹے ہوئے ہونے کی طرف نہ دیکھیے۔
10
यही नज़र है जो अब क़ातिल-ए-ज़माना हुई यही नज़र है कि उठती न थी किसी की तरफ़
یہی نظر ہے جو اب قاتل زمانہ ہوئی یہی نظر ہے کہ اٹھتی نہ تھی کسی کی طرف
یہ وہی نظر ہے جو اب سارے زمانے کی قاتل بن چکی ہے، حالانکہ پہلے یہ کسی کی طرف اٹھتی بھی نہیں تھی۔
11
ग़रीब-ख़ाना में लिल्लाह दो-घड़ी बैठो बहुत दिनों में तुम आए हो इस गली की तरफ़
غریب خانہ میں للٰلہ دو گھڑی بیٹھو بہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف
خدا کے واسطے میرے اس غریب خانے میں تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ، کیونکہ تم بہت دنوں کے بعد اس گلی کی طرف آئے ہو۔
12
ज़रा सी देर ही हो जाएगी तो क्या होगा घड़ी घड़ी न उठाओ नज़र घड़ी की तरफ़
ذرا سی دیر ہی ہو جائے گی تو کیا ہوگا گھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف
اگر تھوڑی سی دیر ہو بھی جائے گی تو کیا ہو جائے گا؟ بار بار گھڑی کی طرف مت دیکھو۔
13
जो घर में पूछे कोई ख़ौफ़ क्या है कह देना चले गए थे टहलते हुए किसी की तरफ़
جو گھر میں پوچھے کوئی خوف کیا ہے کہہ دینا چلے گئے تھے ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف
اگر گھر میں کوئی پوچھے تو ڈرنے کی کیا بات ہے، بس کہہ دینا کہ ہم یوں ہی ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف چلے گئے تھے۔
14
हज़ार जल्वा-ए-हुस्न-ए-बुताँ हो ऐ 'अकबर' तुम अपना ध्यान लगाए रहो उसी की तरफ़
ہزار جلوۂ حسن بتاں ہو اے اکبرؔ تم اپنا دھیان لگائے رہو اسی کی طرف
اے اکبر، خواہ دنیاوی محبوباؤں کے حسن کے ہزاروں جلوے کیوں نہ ہوں، تم اپنی توجہ صرف اسی (خدا) کی طرف لگائے رکھو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.