“For God's sake, accept this offering of the heart; cast not your gaze upon its brokenness.”
خدا کے واسطے دل کے اس تحفے کو قبول فرمائیے، اور اس کے ٹوٹے ہوئے ہونے کی طرف نہ دیکھیے۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کے حضور بڑی عاجزی اور التجا کے ساتھ اپنے دل کا نذرانہ پیش کر رہا ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ اس کا دل صدموں سے چور اور ٹوٹا ہوا ہے، اسی لیے وہ خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہے کہ دل کی شکستگی اور زخموں پر دھیان نہ دیں بلکہ اس خلوص کو قبول فرمائیں۔ محبت میں عیب دار اور ٹوٹا ہوا دل ہی دراصل سب سے سچا، مخلص اور قیمتی تحفہ مانا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
