“The gaze of the entire assembly falls upon them alone, yet not toward a single soul do they lift their eyes.”
ساری محفل کی نظریں ان پر لگی ہیں، مگر وہ آنکھ اٹھا کر بھی کسی کی طرف نہیں دیکھتے۔
اس شعر میں محفل کا ایک دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے، جہاں محبوب کا جلوہ تمام حاضرین کو مسحور کر دیتا ہے۔ ساری محفل کی آنکھیں بس انہی پر جمی ہیں، مگر محبوب کی بے نیازی اور حسن کا یہ عالم ہے کہ وہ پلٹ کر کسی کو ایک نظر نہیں دیکھتے۔ یہ تغافل اور ناز ہی دراصل وہ ادا ہے جو دیکھنے والوں کے دلوں کو اور زیادہ تڑپا دیتی ہے اور عشق کے نشے کو گہرا کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
