کبھی جو ہوتی ہے تکرار غیر سے ہم سے تو دل سے ہوتے ہو در پردہ تم اسی کی طرف

“Whenever a dispute breaks out between the rival and me, / Behind the veil, deep in your heart, you secretly side with him.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

جب کبھی ہمارے اور رقیب کے درمیان کوئی تکرار ہوتی ہے، تو تم دل ہی دل میں چھپ کر اسی کی طرف داری کرتے ہو۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے اس خاموش رنج کا گلہ کر رہا ہے جو محبوب کی چھپی ہوئی جانب داری دیکھ کر ہوتا ہے۔ جب بھی عاشق اور رقیب کے درمیان کوئی تکرار ہوتی ہے، تو محبوب بظاہر خاموش رہتا ہے مگر دل ہی دل میں، یعنی ’در پردہ‘، اس کی تمام تر چاہت اور ہمدردی رقیب کے پلڑے میں چلی جاتی ہے۔ یہ اس کسک کا بے حد خوبصورت بیان ہے جہاں انسان کو اندازہ ہو جائے کہ وہ محبوب کی توجہ کی جنگ لڑتے ہوئے بھی اس کے دل کی عدالت میں پہلے ہی ہار چکا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.