“What harm could come if there is just a slight delay? Turn not your eyes toward the clock with every passing moment.”
اگر تھوڑی سی دیر ہو بھی جائے گی تو کیا ہو جائے گا؟ بار بار گھڑی کی طرف مت دیکھو۔
اس شعر میں لفظ 'گھڑی' کی بڑی دلکش رعایت ہے، جہاں ایک گھڑی کا مطلب 'بار بار' ہے اور دوسری گھڑی وقت کی علامت ہے۔ محبوب جانے کی جلدی میں بار بار وقت دیکھ رہا ہے اور عاشق بڑی اپنائیت و نفاست سے التجا کر رہا ہے کہ اگر تھوڑی دیر ہو بھی گئی تو کیا حرج ہو جائے گا۔ یہ وقت کی قید سے بے نیاز ہو کر قربت کے چند خوبصورت لمحوں کو جینے اور سمیٹنے کی دل نشین خواہش ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
