یہی نظر ہے جو اب قاتل زمانہ ہوئی یہی نظر ہے کہ اٹھتی نہ تھی کسی کی طرف

“This is the very gaze that now has turned the slayer of the world; this is the very gaze that once would never lift toward anyone.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

یہ وہی نظر ہے جو اب سارے زمانے کی قاتل بن چکی ہے، حالانکہ پہلے یہ کسی کی طرف اٹھتی بھی نہیں تھی۔

تشریح

یہ شعر شرم و حیا سے بے پناہ دلکشی تک کے خوبصورت سفر کی کہانی بیان کرتا ہے۔ شاعر حیرت اور وارفتگی سے محبوب کی نگاہوں کو دیکھ رہا ہے، جو کبھی اتنی باحیا تھیں کہ کسی کی طرف اٹھنے سے بھی کتراتی تھیں۔ مگر وقت کے ساتھ اسی معصوم نظر نے ایسا فتنہ جگایا ہے کہ اب پورا زمانہ اس کے ایک اشارے پر اپنا دل ہار بیٹھتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.