“The heart gets trapped in torment, life is squandered in vain; may God lead no one's footsteps toward that cruel lane.”
دل مصیبت میں پھنس جاتا ہے اور ناحق جان چلی جاتی ہے، خدا کسی کو بھی اس گلی کی طرف نہ لے جائے۔
اس شعر میں ایک ایسے عاشق کا گہرا درد چھلک رہا ہے جو محبت کے راستے میں اپنا سب کچھ لٹا کر عبرت بن چکا ہے۔ شاعر نے محبوب کی گلی کو کوئی دلکش منزل نہیں بلکہ مصیبت کا ایک ایسا جال بتایا ہے جہاں دل بے سبب الجھتا ہے اور مفت میں زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل اپنے کڑوے تجربے سے نکلی ہوئی ایک ہمدردانہ دعا ہے کہ جو عذاب اس نے جھیلا ہے، خدا کسی اور کو اس گلی کے راستے پر کبھی نہ لے جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
