“Their gaze remains fixed only upon their own beauty's grace; they never lift their eyes to look upon another's face.”
ان کی نگاہ صرف اپنے ہی حسن و جمال پر لگی رہتی ہے، وہ کبھی نظر اٹھا کر کسی اور کی طرف نہیں دیکھتے۔
اس شعر میں محبوب کی خود پسندی اور کمالِ بے نیازی کا بڑا نازک اور دلفریب نقشہ کھینچا گیا ہے۔ محبوب اپنے ہی حسن اور جلوؤں کے سحر میں اس قدر محو ہے کہ اسے دنیا یا اپنے چاہنے والوں کی کوئی پروا ہی نہیں۔ ایک نگاہِ التفات کے لیے ترستے ہوئے عاشق کے لیے یہ لاپرواہی جتنی سحر انگیز ہے، اتنی ہی روح فرسا بھی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
