غزل
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
یہ غزل محبوب کی دلکش آرائش اور عاشق کی لافانی وارفتگی کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محبوب کے سجنے سنورنے پر دل کے مصیبت میں گرفتار ہونے اور مرنے کے بعد بھی مزار پر اگنے والی گھاس کے ذریعے محبوب کے قدم چومنے کے لازوال شوق کو بڑے پرتاثیر انداز میں بیان کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
आज आराइश-ए-गेसू-ए-दोता होती है
फिर मिरी जान गिरफ़्तार-ए-बला होती है
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
پھر مری جان گرفتار بلا ہوتی ہے
آج محبوب کی خم دار زلفوں کو سنوارا جا رہا ہے، اور یوں ایک بار پھر میری جان مصیبت و بلا میں گرفتار ہو رہی ہے۔
2
शौक़-ए-पा-बोसी-ए-जानाँ मुझे बाक़ी है हनूज़
घास जो उगती है तुर्बत पे हिना होती है
شوق پابوسیٔ جاناں مجھے باقی ہے ہنوز
گھاس جو اگتی ہے تربت پہ حنا ہوتی ہے
مجھے اب بھی اپنے محبوب کے قدم چومنے کی تمنا باقی ہے، اسی لیے میری قبر پر اگنے والی گھاس ان کے لیے حنا بن جاتی ہے۔
3
फिर किसी काम का बाक़ी नहीं रहता इंसाँ
सच तो ये है कि मोहब्बत भी बला होती है
پھر کسی کام کا باقی نہیں رہتا انساں
سچ تو یہ ہے کہ محبت بھی بلا ہوتی ہے
محبت میں مبتلا ہونے کے بعد انسان کسی کام کا نہیں رہتا، سچ تو یہ ہے کہ محبت بھی ایک مصیبت یا بلا ہوتی ہے۔
4
जो ज़मीं कूचा-ए-क़ातिल में निकलती है नई
वक़्फ़ वो बहर-ए-मज़ार-ए-शोहदा होती है
جو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئی
وقف وہ بہر مزار شہدا ہوتی ہے
قاتل کی گلی میں جو بھی نئی زمین نکلتی ہے، وہ فوراً شہیدوں کی قبروں کے لیے وقف ہو جاتی ہے۔
5
जिस ने देखी हो वो चितवन कोई उस से पूछे
जान क्यूँ-कर हदफ़-ए-तीर-ए-क़ज़ा होती है
جس نے دیکھی ہو وہ چتون کوئی اس سے پوچھے
جان کیوں کر ہدف تیر قضا ہوتی ہے
جس نے محبوب کی وہ نگاہ دیکھی ہو کوئی اس سے پوچھے کہ جان کس طرح موت کے تیر کا نشانہ بن جاتی ہے۔
6
नज़्अ' का वक़्त बुरा वक़्त है ख़ालिक़ की पनाह
है वो साअ'त कि क़यामत से सिवा होती है
نزع کا وقت برا وقت ہے خالق کی پناہ
ہے وہ ساعت کہ قیامت سے سوا ہوتی ہے
نزع کی تکلیف کا وقت بہت برا وقت ہوتا ہے، خدا اپنی پناہ میں رکھے؛ یہ وہ گھڑی ہے جو قیامت سے بھی زیادہ کٹھن ہوتی ہے۔
7
रूह तो एक तरफ़ होती है रुख़्सत तन से
आरज़ू एक तरफ़ दिल से जुदा होती है
روح تو ایک طرف ہوتی ہے رخصت تن سے
آرزو ایک طرف دل سے جدا ہوتی ہے
ایک طرف جسم سے روح رخصت ہوتی ہے تو دوسری طرف دل سے آرزوئیں اور تمنائیں جدا ہوتی ہیں۔
8
ख़ुद समझता हूँ कि रोने से भला क्या हासिल
पर करूँ क्या यूँही तस्कीन ज़रा होती है
خود سمجھتا ہوں کہ رونے سے بھلا کیا حاصل
پر کروں کیا یوں ہی تسکین ذرا ہوتی ہے
میں خود یہ جانتا ہوں کہ رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، لیکن کیا کروں کہ اس طرح دل کو ذرا تسلی اور سکون مل جاتا ہے۔
9
रौंदते फिरते हैं वो मजमा-ए-अग़्यार के साथ
ख़ूब तौक़ीर-ए-मज़ार-ए-शोहदा होती है
روندتے پھرتے ہیں وہ مجمع اغیار کے ساتھ
خوب توقیر مزار شہدا ہوتی ہے
وہ غیروں کے ہجوم کے ساتھ ہماری قبر کو پاؤں تلے روندتے پھر رہے ہیں؛ شہیدوں کے مزار کا خوب احترام کیا جا رہا ہے۔
10
मुर्ग़-ए-बिस्मिल की तरह लोट गया दिल मेरा
निगह-ए-नाज़ की तासीर भी क्या होती है
مرغ بسمل کی طرح لوٹ گیا دل میرا
نگہ ناز کی تاثیر بھی کیا ہوتی ہے
میرا دل ذبح کیے ہوئے پرندے کی طرح تڑپ کر زمین پر لوٹ گیا، محبوب کی ناز بھری نگاہ کا اثر بھی کیسا کمال ہوتا ہے۔
11
नाला कर लेने दें लिल्लाह न छेड़ें अहबाब
ज़ब्त करता हूँ तो तकलीफ़ सिवा होती है
نالہ کر لینے دیں للہ نہ چھیڑیں احباب
ضبط کرتا ہوں تو تکلیف سوا ہوتی ہے
اے دوستو! خدا کے واسطے مجھے مت روکو اور رو لینے دو، کیونکہ جب میں اپنے درد پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوں تو تکلیف اور بڑھ جاتی ہے۔
12
जिस्म तो ख़ाक में मिल जाते हुए देखते हैं
रूह क्या जाने किधर जाती है क्या होती है
جسم تو خاک میں مل جاتے ہوئے دیکھتے ہیں
روح کیا جانے کدھر جاتی ہے کیا ہوتی ہے
ہم جسم کو تو مٹی میں ملتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مگر کوئی نہیں جانتا کہ روح کدھر جاتی ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
13
हूँ फ़रेब-ए-सितम-ए-यार का क़ाइल 'अकबर'
मरते मरते न खुला ये कि जफ़ा होती है
ہوں فریب ستم یار کا قائل اکبرؔ
مرتے مرتے نہ کھلا یہ کہ جفا ہوتی ہے
اے اکبر، میں محبوب کے ستم کے فریب کا ایسا قائل ہوں کہ مرتے دم تک مجھ پر یہ ظاہر نہ ہوا کہ یہ اصل میں جفا اور ظلم تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
