“I remain spellbound by the sweet illusion of the beloved's cruelty, O Akbar; even as I lay dying, I never realized it was tyranny.”
اے اکبر، میں محبوب کے ستم کے فریب کا ایسا قائل ہوں کہ مرتے دم تک مجھ پر یہ ظاہر نہ ہوا کہ یہ اصل میں جفا اور ظلم تھا۔
اکبرؔ اس شعر میں عشق کی اس معصومانہ سادگی اور وارفتگی کو بیان کر رہے ہیں جہاں محبوب کی بے رخی اور ستم بھی عنایت محسوس ہوتے ہیں۔ عاشق اپنے محبوب کے ستم کے فریب پر اس قدر فدا رہا کہ جان لبوں پر آ گئی، مگر اسے کبھی یہ گمان ہی نہ ہوا کہ یہ ظلم یا بے وفائی ہے۔ یہ محبت کی وہ انتہا ہے جہاں عاشق محبوب کے دیے ہوئے ہر درد کو اس کی محبت سمجھ کر مسکراتے ہوئے جان دے دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
