“Let someone ask the one who has seen that piercing glance, how the soul becomes the target of the arrow of fate.”
جس نے محبوب کی وہ نگاہ دیکھی ہو کوئی اس سے پوچھے کہ جان کس طرح موت کے تیر کا نشانہ بن جاتی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی تیکھی اور قاتل نگاہ کو تیرِ قضا یعنی تقدیر کے تیر سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس نے محبوب کی وہ چتون دیکھی ہو، وہی بتا سکتا ہے کہ کس طرح ایک نگاہ دل و جان کو اپنا بے بس نشانہ بنا لیتی ہے۔ یہ شعر محبت کے اس جادوئی اثر کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک نظر عاشق کے وجود کو تقدیر کی طرح اپنے قابو میں کر لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
