“A person is rendered good for nothing thereafter; truth be told, love too is a calamity.”
محبت میں مبتلا ہونے کے بعد انسان کسی کام کا نہیں رہتا، سچ تو یہ ہے کہ محبت بھی ایک مصیبت یا بلا ہوتی ہے۔
محبت کو یوں تو زندگی کی سب سے حسین نعمت سمجھا جاتا ہے، مگر یہ شعر اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ عشق انسان کو دنیا داری کے کسی کام کا نہیں چھوڑتا۔ جب دل پر محبت کا غلبہ ہو جائے تو ساری سدھ بدھ، عقل اور روزمرہ کی مصروفیات بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ شاعر نے محبت کو 'بلا' یعنی ایک ایسی آفت قرار دیا ہے جو انسان کے اندر کا سارا توازن درہم برہم کر کے اسے لاچار بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
