“Whatever new ground opens up in the slayer's street / Is consecrated at once for the martyrs' graves.”
قاتل کی گلی میں جو بھی نئی زمین نکلتی ہے، وہ فوراً شہیدوں کی قبروں کے لیے وقف ہو جاتی ہے۔
اس شعر میں کوچۂ محبوب میں جان نچھاور کرنے والے عاشقوں کے جنون کو کمال خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ محبوب یعنی قاتل کی گلی میں فدا ہونے والوں کی ایسی کثرت ہے کہ وہاں جونہی کوئی نئی زمین نکلتی ہے، وہ فوراً کسی شہیدِ وفا کے مزار کے لیے وقف ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل عشق میں فنا ہو جانے کو فنا نہیں بلکہ سرخروئی اور ایک مقدس اعزاز سمجھنے کا والہانہ بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
