“Today her curled twin tresses are adorned anew; once again my soul is caught in calamity's snare.”
آج محبوب کی خم دار زلفوں کو سنوارا جا رہا ہے، اور یوں ایک بار پھر میری جان مصیبت و بلا میں گرفتار ہو رہی ہے۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کو اپنی دوہری اور خم دار زلفوں کو سنوارتے دیکھ رہا ہے، اور دیکھتے ہی سمجھ جاتا ہے کہ اب خیر نہیں۔ کلاسیکی شاعری میں محبوب کے گیسوؤں کو دلوں کو پھانسنے والا جال سمجھا جاتا ہے۔ شاعر بڑی پیاری بے بسی سے کہتا ہے کہ زلفوں کی یہ نئی سج دھج دراصل میری جان کے لیے ایک اور دلکش مصیبت اور قید کا سامان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
