“They wander trampling all underfoot, with a crowd of rivals in tow; What splendid honour upon the shrine of martyrs they bestow!”
وہ غیروں کے ہجوم کے ساتھ ہماری قبر کو پاؤں تلے روندتے پھر رہے ہیں؛ شہیدوں کے مزار کا خوب احترام کیا جا رہا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی بے نیازی اور سنگ دلی پر ایک درد بھرا طنز کیا ہے۔ عشق میں جان قربان کرنے کے بعد عاشق کی قبر ایک شہید کا مزار بن چکی ہے، جہاں احترام ہونا چاہیے تھا، مگر محبوب وہاں رقیبوں کے جھرمٹ کے ساتھ اسے پاؤں تلے روندتا پھر رہا ہے۔ دوسرے مصرعے میں توقیر کا لفظ دراصل ایک تلخ شکوہ ہے کہ وفا کی قربانی کا کیسا بے درد تماشا بنایا جا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
