“The longing to kiss my beloved's feet still lingers in me; the grass that sprouts upon my grave turns to henna for them.”
مجھے اب بھی اپنے محبوب کے قدم چومنے کی تمنا باقی ہے، اسی لیے میری قبر پر اگنے والی گھاس ان کے لیے حنا بن جاتی ہے۔
یہ شعر عشق کے اس لازوال جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو موت کی سرحدوں کو بھی پار کر جاتا ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی محبوب کے قدم چومنے کی تمنا ویسی ہی تازہ ہے، اسی لیے میری قبر پر جو گھاس اُگتی ہے، وہ گھاس نہیں بلکہ محبوب کے پاؤں کو سجانے والی حنا بن جاتی ہے۔ خاک میں مل کر بھی محبوب کی خوشی اور سنگھار کا وسیلہ بننے کا یہ خیال بے پناہ حسن اور وارفتگی سے لبریز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
