“For God's sake, friends, do not intervene, let me lament and cry; when I suppress this grief, the agony only multiplies.”
اے دوستو! خدا کے واسطے مجھے مت روکو اور رو لینے دو، کیونکہ جب میں اپنے درد پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوں تو تکلیف اور بڑھ جاتی ہے۔
اس خوبصورت شعر میں شاعر اپنے خیر خواہ دوستوں سے التجا کر رہا ہے کہ وہ اسے تسلی دے کر نالہ و زاری سے نہ روکیں۔ وہ دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب وہ اپنے دکھ کو چھپانے اور ضبط کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اندر کی گھٹن اور اذیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہاں رونا کوئی کمزوری نہیں، بلکہ دل کے بے پناہ بوجھ کو ہلکا کرنے اور جینے کی آخری کوشش ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
