“The body is seen turning to dust before our eyes; who knows where the soul departs, or what becomes of it?”
ہم جسم کو تو مٹی میں ملتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مگر کوئی نہیں جانتا کہ روح کدھر جاتی ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
اس شعر میں شاعر زندگی اور موت کے ازلی راز پر بڑی خوبصورتی اور حیرت کے ساتھ غور کر رہا ہے۔ ہماری آنکھیں یہ تو دیکھ لیتی ہیں کہ فانی جسم مٹی میں مل کر خاک ہو گیا، مگر وہ روح جو دراصل ہماری پہچان تھی، نہ جانے کہاں چلی جاتی ہے۔ یہ شعر مادیت کی بے ثباتی اور روح کے پُراسرار سفر کے گہرے سوال کو دل میں جگاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
