جسم تو خاک میں مل جاتے ہوئے دیکھتے ہیں روح کیا جانے کدھر جاتی ہے کیا ہوتی ہے

“The body is seen turning to dust before our eyes; who knows where the soul departs, or what becomes of it?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

ہم جسم کو تو مٹی میں ملتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مگر کوئی نہیں جانتا کہ روح کدھر جاتی ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر زندگی اور موت کے ازلی راز پر بڑی خوبصورتی اور حیرت کے ساتھ غور کر رہا ہے۔ ہماری آنکھیں یہ تو دیکھ لیتی ہیں کہ فانی جسم مٹی میں مل کر خاک ہو گیا، مگر وہ روح جو دراصل ہماری پہچان تھی، نہ جانے کہاں چلی جاتی ہے۔ یہ شعر مادیت کی بے ثباتی اور روح کے پُراسرار سفر کے گہرے سوال کو دل میں جگاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.