غزل
مین ہجر مین مرنے کے قرین ہو ہی چکا تھا
مین ہجر مین مرنے کے قرین ہو ہی چکا تھا
Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI
نغمہ سنیں
1
मैं हिज्र में मरने के क़रीं हो ही चुका था
तुम वक़्त पे आ पहुँचे नहीं हो ही चुका था
مین ہجر مین مرنے کے قرین ہو ہی چکا تھا
تم وقت پہ آپہونچے نہین ہو ہی چکا تھا
میں جدائی میں مرنے کے قریب پہنچ ہی چکا تھا؛ تم ٹھیک وقت پر آ پہنچے، ورنہ سب کچھ ختم ہی ہو چکا تھا۔
2
अब जान पे आफ़त है जो आए हो दोबारा
इक बार तो ग़ारत दिल-ओ-दीं हो ही चुका था
اب جان پہ آفت ہے جو آئے ہو دوبارہ
اک بار تو غارت دل و دین ہو ہی چکا تھا
اب جان پر آفت ہے کہ تم دوبارہ آئے ہو، کیونکہ ایک بار تو دل اور ایمان پہلے ہی لٹ چکا تھا۔
3
बरहम उसे क्यों तू ने किया छेड़ के फिर ज़ुल्फ़
ऐ दिल वो अभी चीन-ब-जबीं हो ही चुका था
برہم اُسے کیون تو نے کیا چھیڑ کے پھر زلف
اے دل وہ ابھی چین بجبین ہو ہی چکا تھا
اے دل، تُو نے اُس کی زلف کو پھر چھیڑ کر اُسے کیوں ناراض کر دیا، جب کہ وہ ابھی ابھی ماتھے پر بل ڈال کر ناخوشی ظاہر کر ہی چکی تھی۔
4
होता जो न पैवंद-ए-ज़मीं तेरी गली में
आसूदा ये दिल ज़ेर-ए-ज़मीं हो ही चुका था
ہوتا جو نہ پیوند زمین تیری گلی مین
آسودہ یہ دل زیر زمین ہو ہی چکا تھا
اگر یہ دل تیری گلی کی زمین میں پیوند ہو کر نہ مل جاتا، تو یہ کب کا زیرِ زمین دفن ہو کر سکون پا چکا ہوتا۔
5
आने से मिरे ठहर गए आप वगरना
जाने का इरादा तो कहीं हो ही चुका था
آنے سے مرے ٹھہر گئے آپ وگرنہ
جانے کا ارادہ تو کہین ہو ہی چکا تھا
آپ صرف میرے آنے کی وجہ سے ٹھہر گئے، ورنہ جانے کا ارادہ تو آپ پہلے ہی کہیں کر چکے تھے۔
6
जो ख़त में लिखा उस से वो उस लिखने से पहले
मक्तूब मिरी लौह-ए-जबीं हो ही चुका था
جو خط مین لکھا اُس سے وہ اُس لکھنے سے پہلے
مکتوب میر لوح جبین ہو ہی چکا تھا
جو کچھ اُس خط میں لکھا گیا، وہ اُس لکھنے سے پہلے ہی میری پیشانی کی تختی پر ایک پیغام کے طور پر لکھا جا چکا تھا۔
7
बे-बदरक़ा-ए-मर्ग तवक़्क़ुफ़ रहा वर्ना
अज़्म-ए-सफ़र-ए-जान-ए-हज़ीं हो ही चुका था
بے بدرقۂ مرگ توقف رہا ورنہ
عزم سفر جان حزین ہو ہی چکا تھا
موت کی رہنمائی کے بغیر سفر کچھ دیر کے لیے رُکا رہا، ورنہ غمگین جان تو روانہ ہونے کا ارادہ کر ہی چکی تھی۔
8
क्या होता जो समझाते उसे जाके मिरे दोस्त
दुश्मन का सुख़न ज़ेहन-नशीं हो ही चुका था
کیا ہوتا جو سمجھاتے اُسے جاکے مرے دوست
دشمن کا سخن ذہن نشین ہو ہی چکا تھا
کیا ہو جاتا اگر میرے دوست جاکر اُسے سمجھاتے؟ دشمن کی بات تو پہلے ہی اُس کے ذہن میں بیٹھ چکی تھی۔
9
क्या देखते हम यूसुफ़-ए-कनआँ को कि अपना
मंज़ूर-ए-नज़र एक हसीं हो ही चुका था
کیا دیکھتے ہم یوسف کنعان کو کہ اپنا
منظور نظر ایک حسین ہو ہی چکا تھا
ہم کنعان کے یوسف کو کیوں دیکھتے، جبکہ ہماری اپنی نظروں کا ایک حسین محبوب پہلے ہی بن چکا تھا۔
10
क्या गर्म-ए-तपिश होता तड़प कर तिरे आगे
मैं सर्द तख़्ता-ए-सरगीं हो ही चुका था
کیا گرم تپش ہوتا تڑپ کر ترے آگے
مین سرد تختیہ سرگین ہو ہی چکا تھا
میں تیرے سامنے تڑپ کر گرمی اور جوش سے کیسے بھر سکتا تھا، جب میں تو پہلے ہی ٹھنڈا، گوبر سے لپا ہوا مٹی کا تختہ بن چکا تھا۔
11
सीना जो किया चाक तो वाँ कुछ भी न पाया
क्या जल के जिगर ख़ाक कहीं हो ही चुका था
سینہ جو کیا چاک تو وان کچھ بھی نہ پایا
کیا جل کے جگر خاک کہین ہو ہی چکا تھا
جب میں نے اپنا سینہ چاک کیا تو وہاں کچھ بھی نہ ملا؛ کیا جگر جل کر پہلے ہی کہیں خاک ہو چکا تھا؟
12
जो कुछ कि हुआ हम से वो किस तरह न होता
हुक्म-ए-अज़ली ज़ौक़ यूँहीं हो ही चुका था
جو کچھ کہ ہوا ہم سے وہ کسطرح نہ ہوتا
حکم ازلی ذوقؔ یوہین ہو ہی چکا تھا
ہم سے جو کچھ بھی ہوا وہ بھلا کس طرح نہ ہوتا؟ اے ذوقؔ، یہ تو حکمِ ازلی تھا جو پہلے ہی سے یوں طے ہو چکا تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
