کیا ہوتا جو سمجھاتے اُسے جاکے مرے دوست — شیخ ابراہیم ذوق
“What would it have availed, had my friends gone and reasoned with her? The enemy's words had already lodged deep within her heart.”
معنی
کیا ہو جاتا اگر میرے دوست جاکر اُسے سمجھاتے؟ دشمن کی بات تو پہلے ہی اُس کے ذہن میں بیٹھ چکی تھی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک ٹوٹتے رشتے کی بے بسی بیان کرتا ہے۔ جب تک دوست جا کر اُسے سمجھاتے، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی — دشمن کی باتیں اُس کے دل و دماغ میں گھر کر چکی تھیں۔ 'ذہن نشیں' کی خوبصورتی یہی ہے کہ جو بات ایک بار دل میں بیٹھ جائے، اُسے نکالنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بدگمانی کی وہ نازک گھڑی ہے جب سمجھانا بھی بے سود ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
