مین ہجر مین مرنے کے قرین ہو ہی چکا تھا — شیخ ابراہیم ذوق
مین ہجر مین مرنے کے قرین ہو ہی چکا تھا
تم وقت پہ آپہونچے نہین ہو ہی چکا تھا
“In separation's grip I had all but met my end— you arrived in time, or else it had all but been the end.”
— شیخ ابراہیم ذوق
معنی
میں جدائی میں مرنے کے قریب پہنچ ہی چکا تھا؛ تم ٹھیک وقت پر آ پہنچے، ورنہ سب کچھ ختم ہی ہو چکا تھا۔
تشریح
اس شعر میں ہجر کا کرب اتنا شدید ہے کہ عاشق موت کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر محبوب عین وقت پر آپہنچا اور جان بچ گئی، مگر شاعر نہایت نزاکت سے کہتا ہے کہ ذرا سی دیر ہو جاتی تو سب کچھ ختم ہو چکا ہوتا۔ یہ اس انتہائے عشق کی تصویر ہے جہاں زندگی اور موت محبوب کے آنے پر ٹکی ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 12Next →
