کیا گرم تپش ہوتا تڑپ کر ترے آگے — شیخ ابراہیم ذوق

کیا گرم تپش ہوتا تڑپ کر ترے آگے مین سرد تختیہ سرگین ہو ہی چکا تھا

“How could I have burned warm with longing, writhing before you— I had already become a cold, dung-spread slab of clay.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میں تیرے سامنے تڑپ کر گرمی اور جوش سے کیسے بھر سکتا تھا، جب میں تو پہلے ہی ٹھنڈا، گوبر سے لپا ہوا مٹی کا تختہ بن چکا تھا۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنی تھکی ہوئی، بے جان کیفیت بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اب میں تیرے سامنے تڑپ کر کیسے جلتا، کیسے حرارت اور بے چینی دکھاتا — میں تو پہلے ہی ایک سرد، گوبر سے لپے ہوئے تختے کی مانند بے جان ہو چکا تھا۔ 'سرد تختۂ سرگیں' کی تصویر نہایت دردناک ہے — جیسے کوئی مردہ یا بالکل سن، بے حس شے۔ یہاں عشق کی وہ منزل ہے جہاں جذبات اس قدر تھک چکے ہیں کہ جلنے کی سکت بھی باقی نہیں رہی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.