اب جان پہ آفت ہے جو آئے ہو دوبارہ — شیخ ابراہیم ذوق
“Now my very life's in peril, that you've come once more— for once already my heart and faith were ravaged to the core.”
معنی
اب جان پر آفت ہے کہ تم دوبارہ آئے ہو، کیونکہ ایک بار تو دل اور ایمان پہلے ہی لٹ چکا تھا۔
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ تمہارا دوبارہ آنا اب میری جان پر آفت بن کر ٹوٹا ہے۔ پہلی بار تمہاری آمد نے تو میرا دل اور ایمان دونوں پہلے ہی لوٹ لیے تھے، اب بچا ہی کیا ہے جو دوسری بار لٹے؟ 'غارت دل و دیں' میں عشق کی وہ تباہی پوشیدہ ہے جو دنیاوی اور روحانی—دونوں سکون کو اجاڑ دیتی ہے۔ محبوب کا حسن اتنا قاتل ہے کہ اس کی ایک جھلک ہی عاشق کو بے دل اور بے دین کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
