سینہ جو کیا چاک تو وان کچھ بھی نہ پایا — شیخ ابراہیم ذوق
سینہ جو کیا چاک تو وان کچھ بھی نہ پایا
کیا جل کے جگر خاک کہین ہو ہی چکا تھا
“When I tore open my breast, I found nothing there at all— had the heart, burnt to ashes, already turned to dust somewhere?”
— شیخ ابراہیم ذوق
معنی
جب میں نے اپنا سینہ چاک کیا تو وہاں کچھ بھی نہ ملا؛ کیا جگر جل کر پہلے ہی کہیں خاک ہو چکا تھا؟
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنا سینہ چاک کرکے دل تلاش کرتا ہے مگر وہاں کچھ بھی نہیں ملتا۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید عشق کی تپش میں اس کا جگر پہلے ہی جل کر خاک ہو چکا اور کہیں بکھر گیا۔ یہ غم کی انتہا کا منظر ہے جہاں محبت نے اندر کچھ باقی نہیں چھوڑا — صرف خالی پن اور جلنے کے نشان۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
