برہم اُسے کیون تو نے کیا چھیڑ کے پھر زلف — شیخ ابراہیم ذوق
“Why did you vex her, O heart, by toying again with her tresses— when already her brow had gathered into a frown of displeasure?”
معنی
اے دل، تُو نے اُس کی زلف کو پھر چھیڑ کر اُسے کیوں ناراض کر دیا، جب کہ وہ ابھی ابھی ماتھے پر بل ڈال کر ناخوشی ظاہر کر ہی چکی تھی۔
تشریح
اِس شعر میں عاشق اپنے ہی بے قرار دل کو ملامت کر رہا ہے۔ محبوب پہلے ہی ناراض تھی، اُس کی پیشانی پر بل آ ہی چکے تھے — اور ایسے نازک لمحے میں دل نے پھر اُس کی زلف سے چھیڑ چھاڑ کر کے خفگی کو پورے غصے میں بدل دیا۔ زلف سے کھیلنا عشق کی بے تابی کا لطیف استعارہ ہے، مگر شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ تھوڑے سے صبر سے جو بات سنور سکتی تھی، بے صبری نے اُسے بگاڑ دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
