کیا دیکھتے ہم یوسف کنعان کو کہ اپنا — شیخ ابراہیم ذوق

کیا دیکھتے ہم یوسف کنعان کو کہ اپنا منظور نظر ایک حسین ہو ہی چکا تھا

“Why should we have gazed upon Joseph of Canaan, when a beauty of our own had already claimed our every glance”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

ہم کنعان کے یوسف کو کیوں دیکھتے، جبکہ ہماری اپنی نظروں کا ایک حسین محبوب پہلے ہی بن چکا تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر یوسفِ کنعان کا ذکر کرتے ہیں، جو حُسن کی مثال اور خوبصورتی کا معیار سمجھے جاتے ہیں۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اُس یوسف کو دیکھنے کی کیا ضرورت، جب ہمارا اپنا محبوب پہلے ہی ہماری نظروں کا مرکز بن چکا تھا۔ گہرائی یہ ہے کہ سچی محبت میں عاشق کے لیے اُس کا اپنا محبوب سارے زمانے کے حُسن سے بڑھ کر ہوتا ہے — کسی اور کی خوبصورتی اُسے پھیکی لگتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.