بے بدرقۂ مرگ توقف رہا ورنہ — شیخ ابراہیم ذوق

بے بدرقۂ مرگ توقف رہا ورنہ عزم سفر جان حزین ہو ہی چکا تھا

“Without death as my guide, the journey paused a while—or else the grieving soul had already resolved to set out and depart.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

موت کی رہنمائی کے بغیر سفر کچھ دیر کے لیے رُکا رہا، ورنہ غمگین جان تو روانہ ہونے کا ارادہ کر ہی چکی تھی۔

تشریح

اس شعر میں شاعر موت کو ایک رہنما، ایک ہمسفر کے روپ میں دیکھتا ہے جو آخری سفر میں راہ دکھاتا ہے۔ اسی بدرقے کے بغیر یہ سفر رکا رہا، ورنہ غم سے نڈھال روح تو کب کی رختِ سفر باندھ چکی تھی۔ کتنی گہری اور درد بھری بات ہے — تھکی ہوئی جان جانے کو تیار ہے، بس موت کے ساتھ کی منتظر ہے، کہ اس کے بنا آخری رخصت ممکن ہی نہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.