آنے سے مرے ٹھہر گئے آپ وگرنہ — شیخ ابراہیم ذوق

آنے سے مرے ٹھہر گئے آپ وگرنہ جانے کا ارادہ تو کہین ہو ہی چکا تھا

“You stayed on only because I arrived, or else the thought of leaving had already been fixed somewhere in your heart.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

آپ صرف میرے آنے کی وجہ سے ٹھہر گئے، ورنہ جانے کا ارادہ تو آپ پہلے ہی کہیں کر چکے تھے۔

تشریح

اس شعر میں ایک نازک سی شکایت چھپی ہے۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ آپ رکے تو صرف اس لیے کہ میں آ گیا، ورنہ آپ کے دل میں جانے کا فیصلہ تو کہیں پہلے ہی ہو چکا تھا۔ یہ ملاقات کی خوشی نہیں بلکہ اُس رشتے کی سرد مہری کا احساس ہے جہاں ٹھہرنا مجبوری بن جائے اور دل کہیں اور جا چکا ہو۔ اصل درد جدائی کا نہیں بلکہ اس احساس کا ہے کہ وہ روح سے تو پہلے ہی رخصت ہو چکے تھے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.