غزل

کسی بیکس کو اسے بیداد گر مارا تو کیا مارا

کسی بیکس کو اسے بیداد گر مارا تو کیا مارا
شیخ ابراہیم ذوق· Ghazal· 12 shers

Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
किसी बेकस को उसे बेदाद-गर मारा तो क्या मारा जो आप ही मर रहा हो उसको गर मारा तो क्या मारा
کسی بیکس کو اسے بیداد گر مارا تو کیا مارا جو آپ ہی مر رہا ہو اُسکو گر مارا تو کیا مارا
اگر کسی ظالم نے کسی بیکس کو مار دیا تو اس میں کیا بڑائی ہے؟ جو پہلے ہی مر رہا ہو، اُسے مار دینے میں کون سی بہادری ہے؟
2
बड़े मूज़ी को मारा नफ़्स-ए-अम्मारा को गर मारा निहंग ओ अज़दहा ओ शेर-ए-नर मारा तो क्या मारा
بڑے موذی کو مارا نفس امّارا کو گر مارا نہنگ واژدہا و شیر نر مارا تو کیا مارا
اگر تم نے بڑے موذی یعنی گناہ پر اکسانے والے نفسِ امّارہ کو مار ڈالا تو تم نے سب سے بڑے دشمن کو مارا۔ لیکن اگر صرف نہنگ، اژدہا یا نر شیر کو مارا تو اس میں کیا بڑی بات ہے؟
3
न मारा आपको जो ख़ाक हो इक्सीर बन जाता अगर पारे को ऐ इक्सीर-गर मारा तो क्या मारा
نہ مارا آپکو جو خاک ہو اکسیر بن جاتا اگر پارے کو اے اکسیر گر مارا تو کیا مارا
تم نے اپنے آپ (نفس) کو نہیں مارا، ورنہ جو خاک تھی وہ بھی اکسیر بن جاتی؛ اے کیمیا گر، اگر تم نے صرف پارے کو مارا تو اس میں کیا کمال کیا؟
4
ख़ता तह-ए-दिल की थी क़ातिल बहुत सी मार खाईकी तेरी ज़ुल्फ़ों ने मुश्कें बांधकर मारा तो क्या मारा
خطا تہ دل کی تھی قاتل بہت سی مار کھائیکی تری زلفوں نے مشکیں باندھکر مارا تو کیا مارا
خطا تو دل کی گہرائی میں تھی، اے قاتل، اور اس کے لیے میں نے بہت مار کھائی؛ جب تیری زلفوں نے میری بانہیں باندھ کر مجھے مارا تو اس میں کیا بڑی بات تھی۔
5
नहीं वो क़ौल का सच्चा हमेशा क़ौल दे देकर जो उसने हाथ मेरे हाथ पर मारा तो क्या मारा
نہیں وہ قول کا سچا ہمیشہ قول دے دیکر جو اُسنے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا
وہ اپنے قول کا سچا نہیں، ہمیشہ وعدے کرتا رہتا ہے؛ تو جب اُس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ مار کر قسم کھائی، تو اُس قسم کا کیا مطلب تھا؟
6
तुफ़ंग ओ तीर तो ज़ाहिर न था कुछ पास क़ातिल के उसी फिर जो दिल पर ताक कर मारा तो क्या मारा
تفنگ و تیر تو ظاہر نہ تھا کچھ پاس قاتل کے اُسی پھر جو دل پر تاک کر مارا تو کیا مارا
قاتل کے پاس نہ تو بندوق ظاہر تھی اور نہ تیر؛ پھر اُس نے نشانہ باندھ کر جو دل پر وار کیا، تو کیا ہی خوب وار کیا۔
7
हंसी के साथ यां रोना है मिस्ल-ए-क़ुलक़ुल-ए-मीना किसी ने क़हक़हा उसने बख़ैर मारा तो क्या मारा
ہنسی کے ساتھ یاں رونا ہے مثل قلقل مینا کسی نے قہقہہ اُسنے بخیر مارا تو کیا مارا
یہاں ہنسی کے ساتھ رونا بھی ہے، جیسے صراحی کے گلے سے شراب نکلنے کی آواز (قلقل)۔ اگر کسی نے قہقہہ لگایا اور وہ بخیر نبھ گیا، تو اس میں کیا بڑی بات ہے۔
8
मेरे आंसू हमेशा हैं ब-रंग-ए-लाल ग़र्क़-ए-ख़ून जो ग़ोता आब में तू ने गुहर मारा तो क्या मारा
مرے آنسو ہمیشہ ہیں برنگ لعل غرق خون جو غوطہ آب میں تو نے گہر مارا تو کیا مارا
میرے آنسو ہمیشہ لال رنگ کے اور خون میں ڈوبے رہتے ہیں، تو اگر تو نے پانی میں غوطہ لگا کر کوئی موتی نکال لیا تو اس میں کیا بڑی بات ہے۔
9
जिगर ज़ख़्मी है और दिल लोटता है तुमने क्या जाना इधर मारा तो क्या मारा उधर मारा तो क्या मारा
جگر زخمی ہے اور دل لوٹتا ہے تمنے کیا جانا ادھر مارا تو کیا مارا اُدھر مارا تو کیا مارا
میرا جگر زخمی ہے اور دل تڑپ رہا ہے، تم نے یہ کبھی نہ جانا۔ خواہ اِدھر وار کیا یا اُدھر، اُس وار کی کیا حقیقت۔
10
दिल-ए-संगीन-ए-ख़ुसरौ पर भी ज़र्ब-ए-कोहकन पहुंची अगर तेशा सर-ए-कोहसार पर मारा तो क्या मारा
دل سنگین خسرو پر بھی ضرب کوہکن پہونچی اگر تیشہ سر کہسار پر مارا تو کیا مارا
خسرو کے پتھر جیسے سخت دل پر بھی کوہکن (فرہاد) کی ضرب پہنچ گئی؛ اگر اس نے تیشے سے پہاڑ کی چوٹی پر وار کیا تو اس میں کیا بڑی بات تھی۔
11
क्या शैतान मारा एक सज्दे के न करने में अगर लाखों बरस सज्दे में सर मारा तो क्या मारा
کیا شیطان مارا ایک سجدے کے نہ کرنے میں اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
ایک سجدہ نہ کرنے سے شیطان کا کیا نقصان ہوا؟ اور اگر وہ لاکھوں برس سجدے میں سر جھکائے رکھتا تو اس کی کیا اہمیت ہوتی؟
12
दिल-ए-बद-ख़्वाह में था मारना या चश्म-ए-बद-बीन में फ़लक पर ज़ौक़ तीर-ए-आह गर मारा तो क्या मारा
دل بدخواہ میں تھا مارنا یا چشم بدبین میں فلک پر ذوق تیر آہ گر مارا تو کیا مارا
مارنا تو بدخواہ کے دل میں یا بری نظر والی آنکھ میں چاہیے تھا؛ اے ذوق، اگر آہ کا تیر آسمان پر چلا دیا تو کیا مارا، کچھ بھی نہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.