نہیں وہ قول کا سچا ہمیشہ قول دے دیکر — شیخ ابراہیم ذوق

نہیں وہ قول کا سچا ہمیشہ قول دے دیکر جو اُسنے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

“He is no keeper of his word, forever pledging promises; so when he struck his hand on mine in oath—what oath, what pledge was that?”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

وہ اپنے قول کا سچا نہیں، ہمیشہ وعدے کرتا رہتا ہے؛ تو جب اُس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ مار کر قسم کھائی، تو اُس قسم کا کیا مطلب تھا؟

تشریح

اس شعر میں شاعر اُس محبوب یا دوست کا ذکر کرتے ہیں جو بار بار وعدے تو کرتا ہے مگر کبھی نبھاتا نہیں۔ اُس زمانے میں قسم کھاتے وقت ہاتھ پر ہاتھ مارا جاتا تھا—تو شاعر کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے قول ہی کا سچا نہیں، تو اُس کا یوں ہاتھ مار کر قسم کھانا بے معنی ہے۔ اس میں وہ کسک پوشیدہ ہے جو انسان کو جھوٹے وعدوں سے بار بار دھوکہ کھا کر ہوتی ہے، اور پھر بھی دل کہیں نہ کہیں اُمید لگائے رکھتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.